اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ٹرمپ نے مئی 2018 میں ایران کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد، ایران پر یکطرفہ شدید پابندیوں کو نافذ کر دیا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال کر وہ تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔
امریکی اخبار لکھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی نہ صرف مشرق وسطی میں تہران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے یا تہران میں انتظامیہ میں تبدیلی جسے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے بلکہ اس نے ایران اور چین کو پہلے سے زیادہ ایک دوسرے سے نزدیک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ٹرمپ کی اس پالیسی کے نتیجے میں ایران اور چین کی شراکت کی نئی شکل تیار ہوئی جس سے امریکی مفاد کو بڑا نقصان پہنچا ہے جبکہ تہران - بیجنگ کی اسٹراٹیجک شراکت، امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران پر پڑنے والے اقتصادی دباؤ کو کافی حد تک کم کر دے گی۔
واشنگٹن پوسٹ کا خیال ہے کہ ایران اور چین کے درمیان اسٹراٹیجک شراکت سے مغربی ایشیا میں بیجنگ کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا۔
اخبار نے مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ چین کے خلاف امریکا کی مخاصمانہ پالیسیوں اور بیجنگ کے خلاف واشنگٹن کا ٹریڈ وار، بیجنگ کے شریکوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
..............
242